خالدمحمود

خالدمحمود

انجان بستیوں کا بُلاوا

    مَیں نے اپنے خیمے کی طنابیں کاٹیں، تو

    تو اُس نے پوچھا،

    ‘‘ کس اُور چلے ہو؟’’

    مَیں نے کہا :

    ‘‘ اپنی بنیادوں میں دبی ہوئی بستیوں کی

    راہداریوں میں، گمشدہ

    اُجڑے قہقہوں کو آواز دینے،

    ریزہ ریزہ بالکنیوں کا انتظار ڈھونڈنے،

    جہاں کبھی بارشوں میں آسمانوں سے،

    کِرنوں میں لپٹے خواب گرتے تھے،

    جہاں خواہشوں کے خال وخط سنوارتے ہوئے

    مقدر کی تیزاَنی سے،

    میرے ہاتھوں کی پوریں چِھل گئی تھیں،

    دیواروں کے مَساموں میں سانس لیتی،

    سہمی لوریوں کو گدگدانے،

    موہوم چھتوں سے،

    خوابیدہ چہروں کی چاپ جھاڑنے ’’

     

    اُس نے میرے رختِ سفر کو ٹٹولتے ہوئے پوچھا،

    ‘‘ کیا باندھ لے چلے ہو؟’’

    مَیں نے کہا :

    ‘‘ تمھاری صحبتوں کی مہک اور

    تمھارے بدن کا گداز ……’’

    وہ میرے بازوؤں میں سمٹ آئی، تو

    مَیں نے دیکھا، کہ

    اُس کی مُندی ہوئی آنکھ میں ایک خواب تھا،

    اور ایک راستہ،

    جس میں کھلنے والے کواڑوں کو خبر نہیں تھی،

    کہ وہ ہمیشہ کے لیے مُقفّل ہو رہے ہیں،

     

    ہواے وقت کے جھونکوں سے دور،

    مرجھائے ہوئے گالوں کو سہلاتی،

    بستیوں کی مسافت مُجھے گھور رہی تھی۔