خالدمحمود

خالدمحمود

مجھے یاد نہیں رہا

    جو پھول مَیں نے تُوڑا تھا

    کِس کے لیے تھا،

    اُس کا رنگ کس  چہرے جیسا تھا

    اُس کی خوشبو، پہلے پہل

     کس بدن سے آئی تھی

    جو نظم میں نے لکھی تھی،

    جس مِیں موسموں، بادلوں

     تِتلیوں،خوشبوؤں اور رنگوں کا ذِکر تھا،

    کیوں لِکھی تھی،

    زندگی میں بے ترتیبی کچھ اس طرح پھیلی ہے

    کہ چیزوں کے معانی کہیں کھو گئے ہیں،

    مَیں اب چہروں، آوازوں اور گلیوں کوبھولنے لگا ہوں

    دروازے ، جو مُجھ پر بند ہوئے

    جن کی زنجیروں پر میری پُوریں اپنے نقش بھول گئیں،

    مجھے تو اُن کے رنگ بھی یاد نہیں رہے،

    مَیں نجانے کیوں لوگوں کے آبائی مکانوں،

    اُن کے گِرد پھیلے درختوں کی خیر خبر پوچھتا رہتا ہوں،

    لوگوں کی تصویریں دیکھتا رہتا ہوں،

    کہ شاید اِس طرح میں اُنھیں یاد رکھ سکوں ۔۔۔۔۔

    سَبھی کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں،

    سب اپنی اپنی زندگی میں مگن رہتے ہیں،

    میرے سوالوں پر،

    لوگ ہنستے، قہقہہ لگاتے گزر جاتےہیں،

    اور مجھے خیال ہی نہیں رہتا

    کہ راہ چلتے لوگوں سے اُن کے آبائی مکانوں کا پتا نہیں پوچھا کرتے،

    اُن سے موسموں کا، تِتلیوں کا تذکرہ نہیں کرتے،

    پچھلے موسم کی بارشوں مِیں

    کِسے یاد کرتا رہتا تھا مَیں،

    کِس کی ہنسی،

    میرے کانوں میں گونجتی رہتی تھی،

    ہاں کوئی بِھیگا وجود سا تھا

    جیسےکوئی سایہ خیال سے گزر گیا،

    کوئی وہم، جو لَمحے بھر کو اُداس کر گیا۔۔۔۔۔