خالدمحمود

خالدمحمود

مَیں بھول گیا تھا

    مَیں بھول گیا تھا

    ہروہ چیز

    جس کے ساتھ میرا دل

    کبھی بندھا رہا تھا

     

    جیسے :

    تمھاری آنکھ

    جس نے زندگی کو بے اثر کر دیا تھا

    تمھارے قرب کی تمنائیں

    تمھارے خوابوں کے ذائقے

    جنھیں آنکھوں میں بھر کر

    دُھند زدہ راستے

    ٹٹولتا پھرتا تھا

    آدھی چھت کی دوپہریں

    جن میں محبتوں کا سوکھتا اناج پڑا تھا

    اورپھیلے ہوئے بے معنی گیت

    پرندوں کی طرح چہچہاتے تھے

     

    رنگ برنگ پتنگیں

    ڈوروں سے چھِلی پوریں

    گرم سانسوں کی ٹکوریں

    چمکتی راتیں

    کچی دیواریں ……

     

    مَیں بھول گیا تھا

    دفتری میزوں پر

    ڈکراتی میٹنگوں سے اٹھنے والی

    کسیلی وحشتوں کی گرد سے اَٹی

    مصروفیتوں کے سبب

     

    خانقاہوں کے ٹھنڈے فرش پر

    آرام کرتی تھکانیں

    رونقیں ڈھونڈتے قدموں کی مسافت

    تار کول کی سڑک پر گرتی بارشیں

    بھاگتی پھرتی پرچھائیاں

    دروازوں پر دستک دیتے گمنام قہقہے

     

    مَیں بھول گیا تھا

    ہر وہ چیز ،جس کے سبب

    میری رگوں میں لہو دوڑتا پھرتا تھا۔