بادِ سموم
وارڈ میں بہت خاموشی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے مرنے والے کی لاش کو، پلاسٹک میں لپیٹا جارہا ہے
آس پاس کے بستروں پر پڑے ہوئے مریض پہلے سے زیادہ اُداس اور خوف زدہ ہیں
کیوں کہ وہ پَیک ہوتے ہوئے اپنے ساتھی کو دیکھ رہے ہیں
کہ پَیکنگ کرنے والے کیسے مُردے کو پَلٹے دے رہے ہیں
ابھی پَیکنگ کے بعد وہ اُسے وارڈ سے لے جائیں گے
وہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس کا ابھی کچھ دیر پہلے ایک نام تھا،
اُس کا نام آخری بار ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر لِکھا جائے گا،
یا قبرکے کتبے پر، کچھ پتا نہیں
آخری نام کے اندراج کا خانہ کہاں ہوتا ہے؟
وہ جو........ اور وہ جو کے درمیان ۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کے خواب گم ہوجاتے ہیں ,
جیسے ابھی ابھی مرنے والے کے بستر سے
وارڈ بوائے نے مرنے والے کے خوابوں سمیت،
چادر جھاڑ کر، بدل ڈالی ہے
اب اِس بستر پر نیا مریض آئے گا
مگر پہلے مریض کے خوابوں کا اندراج کہاں ہوگا؟
اِس اندراج کا خانہ تو کسی فارم پر نہیں ۔۔۔۔۔
کسی کتبے پر نہیں،
آخری ہچکی سے زرا دیر پہلے
وہ کچھ ڈھونڈ رہا تھا،
جیسے کوئی اپنی قیمتی متاع ڈھونڈتا ہے ۔۔۔۔
اس بات کی گواہی آس پاس کے بستروں پر پڑے مریضوں نے دی ہے کہ
وہ پریشانی میں بستر کوٹٹول رہا تھا
مگر ، چادر کی شکنوں کے سوا اُس کے ہاتھ کچھ نہیں لگا،
اُس نے کچھ بے ترتیبی سے نام بھی پُکارے تھے
جن کے جواب میں کوئی نہیں بولا
بعد میں اُس کی آواز کسی کو بُلا نہیں سکی،
اور پھر اُسے لپیٹنے والے چلے آئے
اِس وَبا کے موسم میں
یہ مُردوں کا انتظار کرنے والے اتنے بے چین کیوں ہیں ؟
اِنھیں مُردوں کو لپیٹنے کی ایسی جلدی کیوں ہے؟
مُردے خود سے اُٹھ کر کہیں چلے تو نہیں جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو وہ اپنے رُونے والوں کو نہیں مِلتے
اپنے خواب اُن کے حوالے بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔