خواب
جنھیں مَیں نے
اپنی نَم آلود آنکھوں سے دیکھا، اور
اُن کی جستجو میں،
غیر آباد جہانوں میں بھی پھرتا رہا،
وہ جن کے نقوش
میرے دھندلائے ہوئے جسم کی،
گواہی دیتے رہے، اور
دوسری طرف
یہ خواب تھے،
جن میں، بس تم ہو
مَیں ان خوابوں کو
کیوں عزیز نہ جانوں
جن کو دیکھ کر
مَیں نے چاہا تھا، کہ
تمھاری آنکھوں میں بھی
وہ روشنی بھردوں، جس نے
مجھے برسوں دیوانہ رکھا
تاکہ تم بھی،
ہر حد سے آگے دیکھ سکو
یہاں تک کہ، دنیا تمھارے گیتوں سے بھر جائے
مگر وہ، جنھیں مَیں نے اپنی نم آلود آنکھوں سے دیکھا،
اُن کی جستجو نے مجھے
کہیں بھی ٹھہرنے نہیں دیا
کام جو بھی کرنے والا تھا
وہ، کرنے نہیں دیا