شہر بانو کے لیے
…… پھر مَیں نے دیکھا، کہ
تمھاری کِلکاریاں،
دیوار و در کے مساموں میں،
راستہ بناتی چلی گئیں،
بھلا، میرے دیوار و در کو،
ایسی عادت کہاں تھی، کہ
آسمان سے اُترتی
رونقوں کی ٹولیوں سے،
اپنے بُھربُھرے دامنوں کو آباد کرتے
پُشتوں سے رگوں میں در آئی حیرانی نے،
اِن کی آنکھوں میں وہ کائی جما دی تھی، کہ
یہ ایک دوسرے کے چہروں کو ٹٹولتے، اور
اِنکا ر کی سرگوشیاں کرتے
مَیں اِن کی عادتوں کو جانتا تھا،
یہی وہ دیوار و در تھے،
جن پر پچھلی رات کی خاموشی میں،
جالا بُنتی، میرے خیال کی مکڑی نے
مجھے کئی بار الجھایا تھا،
مَیں تمھارے صدقے،
کہ تمھاری کِلکاریوں نے
میرے سینے میں پھیلتے پتھر توڑے، اور
میری سانس چلنے لگی
ایک نیا آہنگ لے کر،
مَیں اِن جامد دیواروں کی خاموشیوں کا مارا،
مجھے تو تمھاری شوخیاں لپیٹ لے گئیں،