خالدمحمود

خالدمحمود

استفہام

    رات، مَیں نے نیند کو

    اپنے وجود میں تلاش کیا، تو

    مجھے، آسمان، چاند اور ستارے،

    بہت یاد آئے،

    میری آنکھیں خوابوں میں گم ہوئیں،

    تو مَیں چلا ……

    میری رسّی نے میرے پاؤں جکڑ کر پوچھا،

    ‘‘ کہاں جا رہے ہو؟

    دیکھو! تمھارے گھر میں لالٹین بجھ رہی ہے،

    تمھیں ابھی،

    دروازے کے اکھڑے ہوئے تختوں کو بھی جوڑنا ہے

    رنگوں سے ڈھکا ہوا چہرہ لیے،

    کہاں جا رہے ہو؟

    دیکھو! تمھارا لباس میلا اور بوسیدہ ہے،

    میرے سِوا تمھیں کوئی پہچاننے والا بھی نہیں،

    پھر بھی تم جا رہے ہو؟

     

    کیا تم کسی اور کو بھی چاہنے لگے ہو؟

    کیوں دُور رہنے لگے ہو؟