خالدمحمود

خالدمحمود

دیمک زدہ

    گھر کی یاد آئی ہے

    تو،یہ بھی یاد آیا ہے

    کہ گھر کے

    باہری دروازے کو دیمک لگ گئی تھی

    دہلیز کمزور ہوکر ہلنے لگی تھی

    اور اُس سے مِٹّی جھڑنے لگی تھی

    دہلیز کی پیشانی پر

    میرے والد نے

    اپنے ہاتھ سے

    میرانام لکھ رکھا تھا

    دیواروں پر پرندے چہچہاتے تھے

    تو کوئی دروازے کی زنجیر کو

     

    جھولا بناتے تھے

    میرے ہم جولی،دروازے پرٹھہرتے

    اور مجھے پُکار لیا کرتے تھے

    میری ماں نے

    میری کامیابی کے

    کتنے ہی تعویز

    اُس پر باندھے تھے

     

    کتنی آنکھیں،

    کتنے اِنتظار وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں

     

    کتنی صدائیں

    اور کیاکیا چہرے، کہیں رہ گئے ہیں

     

    کس کس کے حصّے کا پانی

    آنکھوں میں لیے پھرتا ہو ں۔