خالدمحمود

خالدمحمود

کورونا کی تپش

    تم مجھے پہچان نہیں سکے

    میرا ماسک میری شناخت مٹانے لگا ہے

    تم میرے قریب سے گزر گئے

    سڑک پر جہاں بھوک بانٹی گئی

    وہاں قطار میں میرے پیٹ کا ٹکڑا بھی تھا

    خاک در خاک پھیلی ہوئی دھوپ سے

    دو گھونٹ پیاس نہیں ٹپکی

    آج وحشت زدہ زندگی کا سترواں دن ہے

    نحوست بھری شام

    سورج کو ٹھوکر لگاتی چلی آرہی ہے،

    خیر۔۔۔ کوئی بات نہیں

    ابھی ابھی ہوا چلی ہے

    کیا خبر بادل بھی چلے آئیں

    دھوپ میں، مجھ سے میری پیاس نہیں ناپی جاتی

    سانس پھول جاتا ہے

    پسینہ آنے لگتا ہے

    مُٹھی بھر وجود کا بوجھ بڑھنے لگتا ہے

    بادل چلے آئیں تو کیا ہی اچھا ہو

    مجھے آج اپنی پیاس کی گہرائی کا اندازہ کرنا ہے

    حالاں کہ مَیں تو بھوک کا استعارہ ہوں

    لیکن تم مجھے کہاں پہچان سکے ہو