خالدمحمود

خالدمحمود

پانی

     

    پانی ہے،

    پانی میں گرتا جاتاہے،

    اپنی بنیادوں سمیت

    ہر منظر،

    ہر چہرہ، ڈگمگاتا ہے،

    اپنے خال و خط سے پرے،

    ہماری محبتوں کے

    سبھی رنگ اترتے اور بہتے جاتے ہیں،

    اب کچھ باقی ہے، تو بس،

    عمر ِگزشتہ کی رایگانی ہے،

    آنکھوں کی حیرانی ہے، اور

    پانی ہے۔