پانی
پانی ہے،
پانی میں گرتا جاتاہے،
اپنی بنیادوں سمیت
ہر منظر،
ہر چہرہ، ڈگمگاتا ہے،
اپنے خال و خط سے پرے،
ہماری محبتوں کے
سبھی رنگ اترتے اور بہتے جاتے ہیں،
اب کچھ باقی ہے، تو بس،
عمر ِگزشتہ کی رایگانی ہے،
آنکھوں کی حیرانی ہے، اور
پانی ہے۔
پانی ہے،
پانی میں گرتا جاتاہے،
اپنی بنیادوں سمیت
ہر منظر،
ہر چہرہ، ڈگمگاتا ہے،
اپنے خال و خط سے پرے،
ہماری محبتوں کے
سبھی رنگ اترتے اور بہتے جاتے ہیں،
اب کچھ باقی ہے، تو بس،
عمر ِگزشتہ کی رایگانی ہے،
آنکھوں کی حیرانی ہے، اور
پانی ہے۔