خالدمحمود

خالدمحمود

حیرانی

     

     

    کونے میں پڑی چکّی کے پاٹوں سے

    گئے دنوں کے اناج کی خوشبو،

    نہیں جاتی،

    دروازے پر لٹکتی لالٹین کے

    تاریک شیشے سے

    رات دوڑی آتی ہے

    یہ بند دروازے، شاید

    صدیوں پہلے کُھلے تھے، یا

    ابھی ابھی ایک بوڑھی عمر نے

    اِن میں زنجیر ڈالی ہے، اور

    اس سے پرے

    جاڑے کی بارش ہے،

    گلیوں میں، دیواروں پر، چھتوں پر،

    آنکھوں میں، دلوں پر، اور

    کچی ڈیوڑھی میں،

    گیلی لکڑیوں کو سلگاتے

    جوانی اونگھ رہی ہے

    اکڑوں بیٹھا ہوا بچپن

    انگاروں کو گھورتا ہے۔

     

    اونگھتے مکانوں کے درمیان

    خاموش پڑی ہوئی سڑک پر

    گھوڑے کی ٹاپ،

    ٹپٹپاتی ہوئی کوئی سرگوشی

    دور سے کانوں کے اندر آتی تھی،

    دروازوں کی درزوں سے،

    روشندانوں سے،

    پردہ پڑی کھڑکیوں کے عقب سے،

    کوئی روشنی چھن چھناتی تھی۔

    اپنی سرخوشی میں ڈوبے،

    دیوانوں کی طرح، ہم

    شہر کی گلیوں کے ماتھے پر

    اپنے بوسے باندھتے تھے،

    بالکنیوں سے،

    کتنی آنکھیں ہمارے راستے نا پتی تھیں،

    وہ کیسی ہاؤ ہُو تھی، بے مطلب سی

    مگر، اس کے معنی اب

    بوند بوند گرتے ہیں، تو

    دیر تک آنکھوں کی لالی نہیں جاتی۔

     

    تازہ دعاؤں کے پھول

    صحنوں میں خشک پڑے ہیں،

    دور کی خانقاہوں کے تعویز

    طاقچوں میں دھرے دھرائے،

    گئے موسموں کا مَیل ہو گئے ہیں،

    کچھ اُڑ اُڑا گئے ہیں، اور ہم

    اپنے اپنے حصّے کی حیرانی

    دانتوں تلے دبائے خاموش ہوگئے ہیں۔