لوری
برسوں پہلے
شفقت لدی آغوش میں سِمٹے
لحافوں میں دبکے
اجنبی دنیاؤں کی لوری سنتے رہے،
تتلیوں کے رنگ
اپنی کم سِن پوروں پر سجائے،
لمحہ لمحہ خواب چُنتے رہے
وہ ہم ہی تھے، پھر،
جو، اپنی ہستیِ موہوم کے
چاک بھی بُنتے رہے
عشقِ لاحاصل کو،
حاصل میں بدلنے کے لیے، اور
اب کہیں سے، ہمارے حصّے کی
اُداس مِٹّی بُلاتی ہے، تو
ہمیں ایک بھولی ہوئی لوری یاد آتی ہے۔