میں یونہی کہ رہا تھا
مَیں یوںہی کہ رہا تھا، کہ
ہواسرسراتی رہتی
تو میرا لہو رگوں میں نہ کھولتا
کوئلہ نہ بنتا
کتوں کے دانت نوکیلے ہیں تو میں کیا کروں
مجھے تو خنجر کی نوک سے بھی اب ڈر نہیں لگتا
ڈرنے کی مہلت بھی کسے ہے،
گلیوں میں چلتے پھرتے، مسخروں کی باتیں سنو
تو لگتا ہے
جیسے ہر کوئی پیٹ بھر کر سوتا ہے
نیند میں سب کا حصہ برابر ہے
مگر خواب صرف دیکھنے والوں کی امانت ہوتے ہیں
تبھی تو مَیں اکثر سوچتا ہوں
کہ ہوا سرسراتی رہتی تو
سانس کھینچنا دشوار نہ ہوتا
مگر اب ہر طرف خاموشی ہے
ایسی خاموشی میں دور سے بلند ہوتے ہوئے بَین
مَیں آسانی سے سن لیتا ہوں
ہاہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بَین آسانی سے کون سن سکتا ہے؟
نہیں مَیں دوسری بات کر رہا تھا ۔ ۔ ۔
تم غلط سمجھے ہو ۔ ۔ ۔
مَیں تو صرف یہ کہ رہا تھا کہ ہوا سرسراتی رہتی
تو بات آگے بڑھ سکتی تھی
گھٹن بہت ہے اب ۔ ۔ ۔
کتے ٹولیوں میں رنگ رلیاں منانے نکلے ہیں
مسخرے اِن کی تھوتھنیاں چاٹ رہے ہیں
میرا پیٹ خالی اور آنکھیں بھری ہوئی ہیں
ایک سورج کی لالی سے جو اچانک ابھرے گا
ایک دن کے انتظار سے جو نکل ہی آئے گا
کسی گلی سے
کسی موڑ پر
کسی پرانی حویلی کے دروازے کی اوٹ سے
جس کی سفیدی میں
کتوں کے نوکیلے دانت ہر آنکھ دیکھے گی
اور تم تو جانتے ہو ،
صبح سویرے ہوا سرسراتی ہوئی
بے چین جسموں کو چھیڑ ہی جاتی ہے ۔
دانت انسانی ہوں یا حیوانی
نوکیلے ہوں تو کتوں کے ہی لگتے ہیں
کٹے پھٹے جسموں سے
خون تو رِستا ہی ہے
مُردے قبروں کے حوالے ہوں
یا سڑکوں کے
چہروں سے شناخت ہو ہی جاتے ہیں
عبادت گاہوں کا شور
اور مکانوں کی خاموشی
سب کو راس آگئی ہے
تو مَیں کیوں بولوں
ماتم سب کا نصیب نہیں ہوتا