خالدمحمود

خالدمحمود

شہر میں صبح ہو رہی تھی

    دیواروں پہ لالی تھی اور پرندے بول رہے تھے آنکھوں میں تھے رنگ سُنہرے بادل گہرے ہو گئے تھے دروازے تو بند کھڑے تھے رستے بھی خاموش پڑے تھے، دُھندلے ، بِکھرے ، اُجلے چہرے ہم کو جاتے دیکھ رہے تھے پلکوں پر اک خواب دَھراتھا نیل گگن میں چاند کھِلا تھا صبح کا تارا جاگ اٹھا تھا