شہر میں صبح ہو رہی تھی
-
دیواروں پہ لالی تھی اور پرندے بول رہے تھے آنکھوں میں تھے رنگ سُنہرے بادل گہرے ہو گئے تھے دروازے تو بند کھڑے تھے رستے بھی خاموش پڑے تھے، دُھندلے ، بِکھرے ، اُجلے چہرے ہم کو جاتے دیکھ رہے تھے پلکوں پر اک خواب دَھراتھا نیل گگن میں چاند کھِلا تھا صبح کا تارا جاگ اٹھا تھا