خالدمحمود

خالدمحمود

نیند ہمیں آلیتی ہے

    یاد آتی ہے

    اُن دنوں کی

    جن پر ہمیں قدرت نہیں رہی

    جنھیں ہم بھول گئے تھے

    کہ وہ ہمارے ہی دن تھے،

     

    یاد آتی ہے

    اُ ن زمینوں کی،

    جن سے پرے کبھی

    زمانے کروٹیں لیتے تھے

     

    آج زمانوں کا نشہ دل سے اُترا ہے تو

    آنکھوں میں وہ دھندلی زمینیں پھیل گئی ہیں

    جن پر

    سورج کے سائے رینگتے گزرجاتے تھے

     

    یادآتی ہے

    گولے کے ٹھنڈے فرشوں کی

    جن پر تیز دوپہریں دھری رہتی تھیں

    اور گلیوں سے گزرتے

    ہمارے اپنے ہی سائے

    لمحے بھر کو ،رُکتے ،سستاتے

    اور روزنوں سے لحظہ بھر کے لیےیوں ہی

    اندر کو جھانک لیتے تھے

     

    یاد آتی ہے

    امرود کی ٹہنیوں کی

    جن پر

    ہمارے ہاتھوں کے نشان جھولتے رہا کرتے تھے

    اور اُن کے آس پاس

    نیلے،پیلے ،لال پرندے چہچہاتے تھے

     

    آجیوں ہی پڑے پڑے پھر ……

    یاد آئی ہے تو ……

    قطاروں میں چلے آئے ہیں

    وہ چہرے بھی ……

    جو نہ جانے کب کے ……

    کہیں اِدھر اُدھررہ گئے ہیں

     

    نَم کھائی آنکھوں سے

    ہم اُنھیں دیکھتے ہیں

    اورپھر ……

    نیند ہمیں آ لیتی ہے۔